کیلکولیٹر بابا
English

تنخواہ ٹیکس کیلکولیٹر پاکستان 2026-27

نئے ایف بی آر سلیبز 2026-27 کے مطابق پاکستان میں ماہانہ انکم ٹیکس اور ٹیکس کے بعد تنخواہ، پچھلے سال سے موازنے کے ساتھ۔

یہ مثال کی قدریں ہیں۔ اپنی قدریں درج کریں۔

نتیجہ

ماہانہ ٹیکس
Rs 6,000
ٹیکس کے بعد ماہانہ تنخواہRs 144,000
سالانہ ٹیکسRs 72,000
ٹیکس کے بعد سالانہ تنخواہRs 1,728,000
مؤثر ٹیکس شرح4%
آپ کا ٹیکس سلیب11% والا سلیب
2025-26 کے مقابلے میںپچھلے سال جتنا

تنخواہ دار افراد کے لیے فنانس ایکٹ 2026 کے سلیبز پر مبنی۔ مستثنیٰ الاؤنسز، ٹیکس کریڈٹ اور بونس شامل نہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے لیے ایف بی آر یا ٹیکس مشیر سے تصدیق کریں۔

حساب کیسے ہوتا ہے

ٹیکس آپ کی سالانہ قابلِ ٹیکس تنخواہ پر ایک ایک سلیب کے حساب سے نکالا جاتا ہے۔ ہر شرح صرف آمدنی کے اس حصے پر لگتی ہے جو اس سلیب کے اندر آتا ہے۔ 2026-27 (یکم جولائی 2026 سے 30 جون 2027) میں سالانہ 6 لاکھ روپے (ماہانہ 50 ہزار روپے) تک آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں۔ 2026-27 کی مثالیں: ماہانہ 1 لاکھ روپے یعنی سالانہ 12 لاکھ روپے۔ ٹیکس = 6 لاکھ کا 1 فیصد = سالانہ 6,000 روپے، یعنی ماہانہ 500 روپے۔ ٹیکس کے بعد تنخواہ: 99,500 روپے۔ ماہانہ 1 لاکھ 50 ہزار روپے یعنی سالانہ 18 لاکھ روپے۔ ٹیکس = 6,000 روپے + 6 لاکھ کا 11 فیصد = سالانہ 72,000 روپے، یعنی ماہانہ 6,000 روپے۔ ٹیکس کے بعد تنخواہ: 1,44,000 روپے۔ ماہانہ 2 لاکھ روپے یعنی سالانہ 24 لاکھ روپے۔ ٹیکس = 1,16,000 روپے + 2 لاکھ کا 20 فیصد = سالانہ 1,56,000 روپے، یعنی ماہانہ 13,000 روپے۔ ٹیکس کے بعد تنخواہ: 1,87,000 روپے۔ قابلِ ٹیکس تنخواہ میں بنیادی تنخواہ اور زیادہ تر الاؤنسز شامل ہوتے ہیں، سوائے ان رقوم کے جنہیں قانون نے مستثنیٰ کیا ہے۔ بونس اور بقایا جات پر بھی عام طور پر ٹیکس لگتا ہے۔ آپ کا ادارہ یہ ٹیکس ہر ماہ آپ کی تنخواہ سے کاٹتا ہے۔

تنخواہ ٹیکس سلیبز 2026-27 (نئے)

یکم جولائی 2026 سے 30 جون 2027 تک تنخواہ دار افراد کے انکم ٹیکس سلیبز۔ ہر شرح صرف آمدنی کے اس حصے پر لگتی ہے جو اس سلیب میں آتا ہے۔

سالانہ قابلِ ٹیکس آمدنی تقریباً ماہانہ ٹیکس
Rs 600,000 تکRs 50,000 تکٹیکس نہیں (0%)
Rs 600,001 – 1,200,000Rs 50,001 – 100,0001% اس رقم پر جو Rs 600,000 سے زیادہ ہو
Rs 1,200,001 – 2,200,000Rs 100,001 – 183,333Rs 6,000 + 11% اس رقم پر جو Rs 1,200,000 سے زیادہ ہو
Rs 2,200,001 – 3,200,000Rs 183,334 – 266,667Rs 116,000 + 20% اس رقم پر جو Rs 2,200,000 سے زیادہ ہو
Rs 3,200,001 – 4,100,000Rs 266,667 – 341,667Rs 316,000 + 25% اس رقم پر جو Rs 3,200,000 سے زیادہ ہو
Rs 4,100,001 – 5,600,000Rs 341,667 – 466,667Rs 541,000 + 29% اس رقم پر جو Rs 4,100,000 سے زیادہ ہو
Rs 5,600,001 – 7,000,000Rs 466,667 – 583,333Rs 976,000 + 32% اس رقم پر جو Rs 5,600,000 سے زیادہ ہو
Rs 7,000,000 سے زیادہRs 583,333 سے زیادہRs 1,424,000 + 35% اس رقم پر جو Rs 7,000,000 سے زیادہ ہو

2026-27 میں تنخواہ دار آمدنی پر کوئی سرچارج نہیں۔

عام تنخواہوں پر ماہانہ ٹیکس

ماہانہ تنخواہ سے کتنا ٹیکس کٹتا ہے، اور 2026-27 میں 2025-26 کے مقابلے میں کتنی بچت ہوتی ہے۔

ماہانہ تنخواہ 2024-252025-262026-27 (نیا) ماہانہ بچت
Rs 50,000 Rs 0Rs 0Rs 0 —
Rs 75,000 Rs 1,250Rs 250Rs 250 —
Rs 100,000 Rs 2,500Rs 500Rs 500 —
Rs 125,000 Rs 6,250Rs 3,250Rs 3,250 —
Rs 150,000 Rs 10,000Rs 6,000Rs 6,000 —
Rs 200,000 Rs 19,167Rs 13,500Rs 13,000 Rs 500
Rs 250,000 Rs 31,667Rs 25,000Rs 23,000 Rs 2,000
Rs 300,000 Rs 45,833Rs 38,833Rs 34,667 Rs 4,167
Rs 400,000 Rs 78,750Rs 71,750Rs 62,000 Rs 9,750
Rs 500,000 Rs 113,750Rs 106,750Rs 92,000 Rs 14,750
Rs 750,000 Rs 201,250Rs 194,250Rs 177,000 Rs 17,250
Rs 1,000,000 Rs 317,625Rs 307,108Rs 264,500 Rs 42,608

عام ماہانہ تنخواہ پر معیاری ٹیکس۔ بونس، بقایا جات، مستثنیٰ الاؤنسز اور ٹیکس کریڈٹ پے سلپ کی رقم بدل دیتے ہیں۔

پرانی اور نئی تنخواہ ٹیکس شرحیں

سالانہ قابلِ ٹیکس آمدنی 2024-252025-262026-27 (نیا)
Rs 600,000 تک0%0%0%
Rs 600,001 – 1,200,0005%1%1%
Rs 1,200,001 – 2,200,00015%11%11%
Rs 2,200,001 – 3,200,00025%23%20%
Rs 3,200,001 – 4,100,00030%30%25%
Rs 4,100,001 – 5,600,00035%35%29%
Rs 5,600,001 – 7,000,00035%35%32%
Rs 7,000,000 سے زیادہ35%35%35%
سرچارج (Rs 1 کروڑ سے زیادہ آمدنی) 10%9%کوئی نہیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

پاکستان میں تنخواہ پر ٹیکس کیسے لگتا ہے؟

ٹیکس سالانہ قابلِ ٹیکس تنخواہ پر سلیب کے حساب سے لگتا ہے۔ ہر شرح صرف آمدنی کے اس حصے پر لگتی ہے جو اس سلیب میں آتا ہے۔ 2026-27 میں: 6 لاکھ تک کچھ نہیں؛ 6 لاکھ سے 12 لاکھ تک 1%؛ 22 لاکھ تک 11%؛ 32 لاکھ تک 20%؛ 41 لاکھ تک 25%؛ 56 لاکھ تک 29%؛ 70 لاکھ تک 32%؛ اور اس سے اوپر 35%۔

2026-27 میں کتنی تنخواہ تک انکم ٹیکس نہیں ہے؟

سالانہ Rs 600,000 (ماہانہ Rs 50,000) تک کی قابلِ ٹیکس آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں۔ اس سے اوپر 1% کا سلیب شروع ہوتا ہے، اس لیے ماہانہ Rs 50,000 سے ذرا اوپر تنخواہ پر صرف چند روپے ٹیکس بنتا ہے۔

زیادہ تنخواہ پر سرچارج کیا ہے؟

2024-25 میں سالانہ ایک کروڑ سے زیادہ کمانے والوں کے ٹیکس پر 10% اور 2025-26 میں 9% سرچارج لگتا تھا۔ 2026-27 کے سلیبز میں سرچارج نہیں ہے۔ پرانا سال منتخب کرنے پر کیلکولیٹر اسے خود شامل کر دیتا ہے۔

کیا اس کیلکولیٹر میں الاؤنسز، بونس اور ٹیکس کریڈٹ شامل ہیں؟

نہیں۔ یہ آپ کی درج کردہ رقم کو عام قابلِ ٹیکس تنخواہ سمجھ کر ٹیکس لگاتا ہے۔ مستثنیٰ الاؤنسز، الگ ٹیکس والے بونس، بقایا جات اور ٹیکس کریڈٹ (مثلاً عطیات یا پنشن فنڈ پر) پے سلپ کا ٹیکس بدل سکتے ہیں۔ مستثنیٰ رقوم نکال کر قابلِ ٹیکس تنخواہ درج کریں۔

کیا یہ کیلکولیٹر مفت اور نجی ہے؟

جی ہاں۔ یہ مفت ہے، رجسٹریشن کی ضرورت نہیں، اور تمام حساب آپ کے براؤزر میں ہوتا ہے، اس لیے آپ کی درج کردہ تنخواہ ہمارے سرور کو نہیں بھیجی جاتی۔

نتیجہ کتنا درست ہے؟

یہ تنخواہ دار افراد کے شائع شدہ سلیبز کے مطابق ہے، لیکن نتائج صرف معلومات کے لیے اندازے ہیں، ٹیکس مشورہ نہیں۔ اپنی اصل کٹوتی کے لیے پے سلپ، ایف بی آر (fbr.gov.pk) یا ٹیکس مشیر سے رجوع کریں۔

نتائج صرف معلومات کے لیے اندازے ہیں، پیشہ ورانہ مشورہ نہیں۔ · آخری اپ ڈیٹ:

متعلقہ کیلکولیٹرز