کیلکولیٹر بابا
English

زکوٰۃ کیلکولیٹر

پاکستان میں نقدی، سونے، چاندی اور بچت پر زکوٰۃ کا حساب لگائیں: دیکھیں کہ آپ صاحبِ نصاب ہیں یا نہیں، اور 2.5 فیصد کے حساب سے واجب زکوٰۃ کی درست رقم۔

سونے اور چاندی کے ریٹآخری معلوم ریٹ
24 قیراط سونا / تولہRs 418,045
چاندی / تولہRs 5,610
USD / PKR276.99
بین الاقوامی قیمتیں روپے میں بدلی گئی ہیں۔ مقامی صرافہ ریٹ تھوڑا مختلف ہوتا ہے؛ ضرورت ہو تو نیچے قیمتیں خود بدلیں۔ · تازہ ترین 23 Oct 2026, 10:12 UTC

یہ مثال کی قدریں ہیں۔ اپنی قدریں درج کریں۔

نتیجہ

واجب الادا زکوٰۃ
Rs 41,376
صورتِ حالزکوٰۃ واجب ہے
کل قابلِ زکوٰۃ اثاثےRs 1,755,042
منہا شدہ قرض اور واجباتRs 100,000
خالص قابلِ زکوٰۃ مالRs 1,655,042
نصاب (چاندی، 52.5 تولہ)Rs 262,500
نصاب کے مقابلے میںنصاب سے Rs 1,392,542 زیادہ
آپ کے سونے کی قدرRs 1,155,042
آپ کی چاندی کی قدرRs 0

فتویٰ مسلک اور حالات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ براہِ کرم کسی مستند عالم سے تصدیق کر لیں۔

حساب کیسے ہوتا ہے

زکوٰۃ آپ کی خالص قابلِ زکوٰۃ دولت کا 2.5 فیصد (چالیسواں حصہ) ہے، جب وہ نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر ایک پورا قمری (ہجری) سال گزر جائے۔ فارمولا: زکوٰۃ = (قابلِ زکوٰۃ اثاثے − فوری واجب قرض) × 2.5 فیصد۔ نصاب وہ کم سے کم دولت ہے جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ یہ کیلکولیٹر چاندی کا نصاب یعنی 612.36 گرام (ساڑھے 52 تولہ) چاندی استعمال کرتا ہے، جسے پاکستان میں زیادہ تر علما بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ یہ کم ہے، اس لیے زیادہ لوگ زکوٰۃ دیتے ہیں اور زیادہ غریبوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ سونے کا نصاب 87.48 گرام (ساڑھے 7 تولہ) سونا ہے۔ چاندی کے نصاب کے لیے آج کی فی گرام چاندی کی قیمت درج کریں۔ مثلاً 250 روپے فی گرام پر نصاب 612.36 × 250 = 1,53,090 روپے بنتا ہے۔ کیا شامل کریں: گھر میں موجود نقدی، بینک بیلنس، سونا اور چاندی (زیورات، سکے یا بسکٹ) آج کی قیمت پر، کاروباری مال اس کی فروخت کی قیمت پر، شیئرز اور سرمایہ کاری، اور وہ رقم جو دوسروں پر آپ کا قرض ہو اور اس کی واپسی کی امید ہو۔ کیا شامل نہ کریں: رہائشی گھر، گاڑی، فرنیچر، گھریلو سامان، کپڑے اور کام کے اوزار۔ مثال: نقدی اور بینک بیلنس 5,00,000 روپے، سونا 5,50,000 روپے کا، کاروباری مال 1,00,000 روپے، اور فوری واجب قرض 50,000 روپے۔ خالص قابلِ زکوٰۃ دولت = 5,00,000 + 5,50,000 + 1,00,000 − 50,000 = 11,00,000 روپے۔ یہ نصاب سے زیادہ ہے، اس لیے واجب زکوٰۃ = 11,00,000 × 2.5 فیصد = 27,500 روپے۔ پاکستان میں بینکوں کی طرف سے زکوٰۃ کی کٹوتی: یکم رمضان کو بینک حکومت کے مقرر کردہ نصاب یا اس سے زیادہ رقم والے سیونگ اور نفع و نقصان کی بنیاد پر چلنے والے اکاؤنٹس سے خود بخود زکوٰۃ کاٹ لیتے ہیں۔ رمضان 2026 کے لیے یہ نصاب 5,03,529 روپے تھا۔ کرنٹ اکاؤنٹس اس میں شامل نہیں۔ اگر آپ کے اکاؤنٹ سے زکوٰۃ کٹ گئی ہو تو آپ وہ رقم اس سال کی اپنی واجب زکوٰۃ میں شمار کر سکتے ہیں۔

آج زکوٰۃ کا نصاب

جب آپ کا خالص مال نصاب تک پہنچ جائے تو زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ پاکستان میں اکثر علماء چاندی کے نصاب کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ وہ کم ہے اور غریبوں کے حق کی حفاظت کرتا ہے۔

نصابوزنموجودہ ریٹ پر قدر
چاندی52.5 تولہ (612.36 گرام)Rs 294,525
سونا7.5 تولہ (87.48 گرام)Rs 3,135,338

بین الاقوامی قیمتوں سے اندازہ (چاندی Rs 5,610 اور 24 قیراط سونا Rs 418,045 فی تولہ)۔ درست رقم کے لیے اوپر کیلکولیٹر میں اپنے مقامی ریٹ استعمال کریں۔

قابلِ زکوٰۃ مال کیا ہے

شامل کریں

  • ہاتھ میں نقدی اور بینک اکاؤنٹس
  • سونا اور چاندی، بشمول زیور (وزن اور قیراط کے حساب سے)
  • کاروباری مال اور فروخت کے لیے رکھا سامان
  • شیئرز، میوچل فنڈز، پرائز بانڈ اور سیونگ سرٹیفکیٹ
  • دوسروں کو دیا گیا قرض جس کی وصولی متوقع ہو

شامل نہ کریں

  • رہائشی گھر اور ذاتی گاڑی
  • گھریلو سامان، کپڑے اور کام کے اوزار
  • فوری ادا کرنے والے قرض اور بل (انہیں منہا کریں)
  • وہ مال جس پر ایک قمری سال نہیں گزرا

حساب کیسے ہوتا ہے

  1. سب قابلِ زکوٰۃ مال جمع کریں: نقدی، سونا، چاندی، مال، سرمایہ کاری اور آپ کو ملنے والی رقم۔
  2. فوری ادا کرنے والے قرض اور بل منہا کریں۔ جو بچے وہ آپ کا خالص مال ہے۔
  3. اگر خالص مال کم از کم نصاب کے برابر ہو اور قمری سال گزر چکا ہو تو اس کا 2.5% زکوٰۃ ادا کریں۔

مثال: خالص مال Rs 1,655,042 × 2.5% = Rs 41,376۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

زکوٰۃ کا حساب کیسے لگایا جاتا ہے؟

اپنے تمام قابلِ زکوٰۃ اثاثے جمع کریں، فوری واجب قرض منفی کریں، اور اگر کل رقم نصاب یا اس سے زیادہ ہو تو اس کا 2.5 فیصد ادا کریں۔ مثلاً 11,00,000 روپے پر زکوٰۃ 27,500 روپے ہے۔

زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟

چاندی کا نصاب 612.36 گرام (ساڑھے 52 تولہ) چاندی اور سونے کا نصاب 87.48 گرام (ساڑھے 7 تولہ) سونا ہے۔ اس کی روپوں میں قیمت بازار کے ساتھ بدلتی ہے، اس لیے کیلکولیٹر میں آج کا چاندی کا ریٹ درج کریں۔

کیا یہ کیلکولیٹر مفت اور نجی ہے؟

جی ہاں۔ یہ مفت ہے اور اس کے لیے رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔ تمام حساب آپ کے براؤزر میں ہوتا ہے، اس لیے آپ کے درج کیے گئے اعداد ہمارے سرور کو نہیں بھیجے جاتے۔

یہ کیلکولیٹر چاندی کا نصاب کیوں استعمال کرتا ہے؟

جب دولت نقدی، سونے اور دوسرے اثاثوں کا مجموعہ ہو تو پاکستان میں بہت سے علما چاندی کا نصاب تجویز کرتے ہیں۔ یہ سونے کے نصاب سے کم ہے، اس لیے یہ زیادہ محتاط انتخاب ہے اور اس سے زیادہ ضرورت مندوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

کیا پہننے والے سونے کے زیورات پر زکوٰۃ ہے؟

حنفی مسلک میں، جس پر پاکستان میں زیادہ تر لوگ عمل کرتے ہیں، سونے اور چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ واجب ہے چاہے آپ انہیں پہنتے ہوں۔ ذاتی استعمال کے زیورات کے بارے میں دوسرے مسالک کی رائے مختلف ہے، اس لیے اگر آپ کسی اور مسلک پر عمل کرتے ہیں تو کسی عالم سے پوچھیں۔

ایک تولہ سونے پر کتنی زکوٰۃ ہے؟

زکوٰۃ سونے کی قیمت کا 2.5 فیصد ہے۔ ایک تولے کی قیمت کو 0.025 سے ضرب دیں۔ مثلاً اگر ایک تولہ 4,00,000 روپے کا ہو تو زکوٰۃ 10,000 روپے ہے۔ صرف سونا ہو تو ساڑھے 7 تولہ سے کم پر زکوٰۃ واجب نہیں، لیکن نقدی یا چاندی کے ساتھ مل کر یہ عام طور پر چاندی کے نصاب سے بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان میں بینک زکوٰۃ کب کاٹتے ہیں؟

بینک یکم رمضان کو ان سیونگ اور نفع و نقصان والے اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کاٹتے ہیں جن میں حکومت کے مقرر کردہ نصاب یا اس سے زیادہ رقم ہو۔ رمضان 2026 کے لیے یہ نصاب 5,03,529 روپے تھا۔ کرنٹ اکاؤنٹس اس میں شامل نہیں۔

بینک اکاؤنٹ سے زکوٰۃ کی کٹوتی کیسے روکیں؟

رمضان سے پہلے اپنے بینک میں زکوٰۃ سے استثنیٰ کا حلف نامہ (فارم CZ-50) جمع کرائیں۔ وہ لوگ جن کا مسلک لازمی کٹوتی کی اجازت نہیں دیتا، اور جن پر زکوٰۃ واجب نہیں، درخواست دے سکتے ہیں۔ درست طریقہ اور آخری تاریخ اپنے بینک سے معلوم کریں۔

کیا گھر، گاڑی یا تنخواہ پر زکوٰۃ ہے؟

رہائشی گھر، گاڑی اور گھریلو سامان پر زکوٰۃ نہیں۔ تنخواہ ملتے وقت اس پر زکوٰۃ نہیں، لیکن اس میں سے جو بچت ہو وہ زکوٰۃ کی تاریخ پر آپ کی باقی دولت کے ساتھ شمار ہوتی ہے۔

نتائج صرف معلومات کے لیے اندازے ہیں، پیشہ ورانہ مشورہ نہیں۔ · آخری اپ ڈیٹ:

متعلقہ کیلکولیٹرز